17 مئی 2012 - 19:30

لاہور … وزيراعظم يوسف رضا گيلاني نے کہا ہے کہ کسي ميں ہمت اور جرأت ہے تو ميرے کيخلاف تحريک عدم اعتماد اور صدر کے خلاف مواخذے کي تحريک لائے، پارليماني کميٹي نے سفارشات ديدي ہيں، نيٹو سپلائي کي بحالي کا حتمي فيصلہ نہيں کيا گيا، اس وقت سب حکومت ميں ہيں، کون کس کے خلاف لانگ مارچ کرے گا، جب تک پارليمنٹ اور اتحاديوں کا ساتھ ہے وزيراعظم رہوں گا، پہلے بھي غير جمہوري طريقے سے حکومتي ہٹائيں گئيں، ہميں کوئي جمہوري طريقے سے نہيں ہٹاسکتا.

ابنا: وزيراعظم يوسف رضا گيلاني نے ان خيالات کا اظہار لاہور ميں مسلم ليگ ق کے رہنماوں چوہدري شجاعت اور پرويز الہي سے ملاقات کے بعد ميڈيا سے گفتگو کرتے ہوئے کيا. انہوں نے کہا کہ آئين کا تحفظ کرنا جرم ہے تو ميں اسے جرم نہيں سمجھتا، عدالت نے کہيں نہيں کہا کہ ميں نااہل ہوگيا ہوں،

نيٹو سپلائي پر پارليماني کميٹي نے سفارشات ديدي ہيں، نيٹو سپلائي کھولنے کا حتمي فيصلہ نہيں کيا گيا. انہوں نے کہا کہ لوڈشيڈنگ پر چودھري شجاعت کے ديئے گئے فارمولے سے اتفاق کرتا ہوں، بجلي بحران کے حل کيلئے اسپيشل کميٹي کا اجلاس روزانہ ہوگا، وفاق کے علاوہ صوبوں سے بھي بجلي کي پيداوار کا سوال کيا جائے، ہماري حکومت نے 3 ہزار سے زائد ميگاواٹ بجلي نيشنل گرڈ ميں شامل کي. انہوں نے کہا کہ کسي صوبائي حکومت کو عوام کو وفاقي حکومت کے خلاف نہيں اکسانا چاہئے، توانائي بحران ہم سب کے لئے چيلنج ہے اور ايمرجنسي روم بناديا ہے.

وزيراعظم نے ميڈيا کے سوالات کے جواب ديتے ہوئے کہا کہ کوئي بھي حکومت نہيں چاہتي کہ وہ کمزور ہو، پہلي جمہوري حکومت ہے جو پانچواں بجٹ پيش کرے گي، ہماري پہلي ترجيح بجلي اور دوسري روزگار کي فراہمي ہے. وزيراعظم گيلاني کا کہنا ہے کہ پہلے بھي غير جمہوري طريقے سے حکومتي ہٹائيں گئيں، ہميں کوئي جمہوري طريقے سے نہيں ہٹاسکتا.

/169